ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیں
کلام: جواد شیخ
ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیںادھر وہ حسن کہ آنکھوں پہ اعتبار نہیں
میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوںمجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ
مہمان شاعر: جواد شیخ
ادھر یہ حال کہ چھونے کا اختیار نہیںادھر وہ حسن کہ آنکھوں پہ اعتبار نہیں
میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوںمجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں
مولا !! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیودلبر نہیں تو پھر کوئی دیگر نہ دیجیو
اپنے سوال سہل نہ لگنے لگیں اُسےآتے بھی ہوں جواب تو فر فر نہ دیجیو