10 اشعار

ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے

Tūṭne par koi aaye to phir aisā tūṭe

ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے

«ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹےکہ جِسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹُوٹے

تُو اِسے کس کے بھروسے پہ نہیں کات رہی ؟؟چرخ کو دیکھنے والی !! ترا چرخہ ٹُوٹے !!

اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے کب تک ؟؟ایک انسان کی خاطر کوئی کِتنا ٹُوٹے ؟؟

کوئی ٹکڑا تری آنکھوں میں نہ چُبھ جائے کہیںدُور ہو جا کہ مرے خواب کا شیشہ ٹُوٹے

میں کسی اور کو سوچوں تو مجھے ہوش آئےمیں کسی اور کو دیکھوں تو یہ نشّہ ٹُوٹے

رنج ہوتا ہے تو ایسا کہ بتائے نہ بنےجب کسی اپنے کے باعث کوئی اپنا ٹُوٹے

پاس بیٹھے ہوئے یاروں کو خبر تک نہ ہوئیہم کسی بات پہ اِس درجہ انوکھا ٹُوٹے

اِتنی جلدی تو سنبھلنے کی توقّع نہ کرو !!وقت ہی کِتنا ہوا ہے مرا سپنا ٹُوٹے

داد کی بھِیک نہ مانگ !! اے مرے اچھے شاعر !!جا تُجھے میری دُعا ہے ترا کاسہ ٹُوٹے

ورنہ کب تک لیے پھِرتا رہوں اِس کو جوّادکوئی صورت ہو کہ اُمّید سے رِشتہ ٹُوٹے

— جواد شیخ