11 اشعار

یہ غم تو ہے سو ہے کہ غریب الدیار ہوں

Yeh gham to hai so hai ke gharīb-ud-diyār hūñ

یہ غم تو ہے سو ہے کہ غریب الدیار ہوں

«یہ غم تو ہے سو ہے کہ غریب الدیار ہوں» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

یہ غم تو ہے سو ہے کہ غریب الدیار ہوںلیکن جہاں جہاں ہوں میں دیوانہ وار ہوں

اس کے سوا بہ وقت دعا کچھ نہ کہہ سکامیں بھی تو آخر اے مرے پروردگار ہوں

تیری عطا ہے آرزوئے روزگار غممیری خطا ہے صید غم روزگار ہوں

اس کی تلاش ہے تو مجھے دیکھ لیجیےمیں اس کی آزمائشوں کا اشتہار ہوں

زنجیر ہوں تو الجھی ہوئی اپنے آپ سےمیں تیر ہوں تو اپنے ہی سینے کے پار ہوں

میں خار تھا تو اپنے ہی اندر گڑا ہواآزار تھا تو آج تلک برقرار ہوں

خاموشی تھی تو اب بھی وہی ہے مرا مزاجغم کوشی تھی تو اب بھی اسی کا شکار ہوں

غم کے لیے کچھ اور خوشی کے لیے کچھ اورجائے پناہ ہوں کہیں راہ فرار ہوں

یعنی عروج ہی میں نہاں ہے مرا زوالپہلے میں دل گداز تھا اب دل فگار ہوں

تو کون ہے تو وجہ ہے میرے وجود کیمیں کون ہوں میں آرزؤں کا مزار ہوں

قائم رہیں وہ جن کی بدولت ہے یہ مداردائم رہیں وہ جن کا میں دار و مدار ہوں

— جواد شیخ