یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا
کلام: جواد شیخ
یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہاکہ اس کا بھی مری طرح سے جی سنبھل نہیں رہا
کوئی ورق دکھا جو اشک خوں سے تر بہ تر نہ ہوکوئی غزل دکھا جہاں وہ داغ جل نہیں رہا
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ
مہمان شاعر: جواد شیخ
یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہاکہ اس کا بھی مری طرح سے جی سنبھل نہیں رہا
کوئی ورق دکھا جو اشک خوں سے تر بہ تر نہ ہوکوئی غزل دکھا جہاں وہ داغ جل نہیں رہا
تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟جسے پوچھیے وہ کہے گا کہ جی ہاں بڑا تجربہ ہے !!
سمجھ میں نہ آئے تو میری خموشی کو دل پر نہ لیناکہ یہ عقل والوں کی دانست سے ماورا تجربہ ہے