9 اشعار

سب پہ تو مہربان ہے پیارے

Sab pe tū mehrbān hai pyāre

سب پہ تو مہربان ہے پیارے

«سب پہ تو مہربان ہے پیارے» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

سب پہ تو مہربان ہے پیارےکچھ ہمارا بھی دھیان ہے پیارے

آ کہ تجھ بن بہت دنوں سے یہ دلایک سونا مکان ہے پیارے

تو جہاں ناز سے قدم رکھ دےوہ زمین آسمان ہے پیارے

مختصر ہے یہ شوق کی رودادہر نفس داستان ہے پیارے

اپنے جی میں ذرا تو کر انصافکب سے نامہربان ہے پیارے

صبر ٹوٹے ہوئے دلوں کا نہ لےتو یوں ہی دھان پان ہے پیارے

ہم سے جو ہو سکا سو کر گزرےاب ترا امتحان ہے پیارے

مجھ میں تجھ میں تو کوئی فرق نہیںعشق کیوں درمیان ہے پیارے

کیا کہے حال دل غریب جگرؔٹوٹی پھوٹی زبان ہے پیارے

— جگر مراد آبادی