غزل 8 اشعار

دوستو وقت ہے پھر زخم جگر تازہ کریں

Dosto waqt hai phir zakhm-e jigar taza karein

دوستو وقت ہے پھر زخم جگر تازہ کریںپردہ جنبش میں ہے پھر آؤ نظر تازہ کریں

تاکجا نالۂ غربت کہ چلی باد شمالدل میں پھر زمزمۂ عزم سفر تازہ کریں

آؤ پھر دھوم سے ہو آج غروب اور طلوعسنت بندگئ شمس و قمر تازہ کریں

آؤ چل کر رخ نا شستہ کو دیکھیں دم صبحموج رنگ افق و نور سحر تازہ کریں

کلہ فقر کو کج کر کے سر بزم نشاطآؤ رسم کہن تاج و کمر تازہ کریں

آؤ پھر جلوۂ جاناں پہ لٹا دیں کونینشغل پارینۂ ارباب نظر تازہ کریں

طبق زر میں لگا کر پئے نظر جاناںآؤ پھر آبروئے لعل و گہر تازہ کریں

آؤ پھر جوشؔ کو دے کر لقب شاہ سخندل و دین سخن و جان ہنر تازہ کریں

— جوش ملیح آبادی