غزل 5 اشعار

میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی

Main ro raha hoon teri nazar hai itab ki

میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کیشبنم کو پی رہی ہے کرن آفتاب کی

بجھنے پہ دل ہے سانس میں بھی ضابطہ نہیںظالم دہائی ہے ترے زور شباب کی

منظور ہے خدا کو تو پہنچوں گا روز حشرچہرے پہ خاک مل کے در بوتراب کی

صورت پرست میری نگاہوں نے اصل میںدل کیا مرے وجود کی مٹی خراب کی

ہر پنکھڑی کے طاق میں ہنس ہنس کے صبح کوشمعیں جلا رہی ہے کرن آفتاب کی

— جوش ملیح آبادی