غزل 7 اشعار

ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے

Idhar Mazhab Idhar Insaan Ki Fitrat Ka Taqaza Hai

ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہےوہ دامان مہ کنعاں ہے یہ دست زلیخا ہے

ادھر تیری مشیت ہے ادھر حکمت رسولوں کیالٰہی آدمی کے باب میں کیا حکم ہوتا ہے

یہ مانا دونوں ہی دھوکے ہیں رندی ہو کہ درویشیمگر یہ دیکھنا ہے کون سا رنگین دھوکا ہے

کھلونا تو نہایت شوخ و رنگیں ہے تمدن کامعرف میں بھی ہوں لیکن کھلونا پھر کھلونا ہے

مرے آگے تو اب کچھ دن سے ہر آنسو محبت کاکنار آب رکناباد و گلگشت مصلےٰ ہے

مجھے معلوم ہے جو کچھ تمنا ہے رسولوں کیمگر کیا درحقیقت وہ خدا کی بھی تمنا ہے

مشیت کھیلنا زیبا نہیں میری بصیرت سےاٹھا لے ان کھلونوں کو یہ دنیا ہے وہ عقبیٰ ہے

— جوش ملیح آبادی