نظم 69 اشعار

خاتون مشرق

Khatoon-e-Mashriq

غنچۂ دل مرد کا روز ازل جب کھل چکاجس قدر تقدیر میں لکھا ہوا تھا مل چکا

دفعتاً گونجی صدا پھر عالم انوار میںعورتیں دنیا کی حاضر ہوں مرے دربار میں

عورتوں کا کارواں پر کارواں آنے لگاپھر فضا میں پرچم انعام لہرانے لگا

ناز سے حوریں ترانے حمد کے گانے لگیںعورتیں بھر بھر کے اپنی جھولیاں جانے لگیں

جب رہا کچھ بھی نہ باقی کیسۂ انعام میںکانپتی حاضر ہوئیں پھر ایشیا کی عورتیں

دل میں خوف شومئی قسمت سے گھبرائی ہوئیرعب سے نیچی نگاہیں آنکھ شرمائی ہوئی

حلم کے سانچے میں روح ناز کو ڈھالے ہوئےگردنوں میں خم سروں پر چادریں ڈالے ہوئے

آخر اس انداز پر رحمت کو پیار آ ہی گیامے کدے پر جھوم کر ابر بہار آ ہی گیا

مسکرا کر خالق ارض و سما نے دی ندااے غزال مشرقی آ تخت کے نزدیک آ

نعمتیں سب بٹ چکیں لیکن نہ ہونا مضمحلسب کو بخشے ہیں دماغ اور لے تجھے دیتے ہیں دل

یہ وہی دل ہے جو مضرب ہوکے سوز و ساز سےمیرے پہلو میں دھڑکتا تھا عجب انداز سے

تجھ کو وہ رخ اپنی سیرت کا دیئے دیتے ہیں ہمجس میں یزدانی نسائیت کی زلفوں کے ہیں خم

آ کہ تجھ کو صاحب مہر و وفا کرتے ہیں ہملے خود اپنی جنبش مژگاں عطا کرتے ہیں ہم

پہلوئے خاتون مشرق میں بصد تمکین و نازمنتقل ہو جا الوہیت کے سینے کے گداز

عورتیں اقوام عالم کی بھٹک جائیں گی جبتو رہے گی بن کے اس طوفاں میں اک موج طرب

حسن ہو جائے گا جب اوروں کا وقف خاص و عامدیدنی ہوگا ترے خلوت کدے کا اہتمام

عالم نسواں پہ کالی رات جب چھا جائے گییہ ترے ماتھے کی بندی صبح کو شرمائے گی

عورتیں بیچیں گی جب اسٹیج پر با رقص و چنگاپنی آنکھوں کی لگاوٹ اپنے رخساروں کا رنگ

ان کے آگے ہر نیا میدان ہوگا جلوہ گاہاور ترا اسٹیج ہوگا صرف شوہر کی نگاہ

گودیاں پھیلا کے جب مانگیں گی با صدق و صفاعورتیں اولاد کے پیدا نہ ہونے کی دعا

مژدہ باد اے ایشیا کی دختر پاکیزہ ترآنچ آئے گی نہ تیرے مادرانہ ذوق پر

ماؤں کی غفلت سے جب بچوں کو پہنچے گا گزندجب فغاں بے تربیت اولاد کی ہوگی بلند

صرف اک تیرا تبسم اے جمال تابناکسینۂ اطفال میں پیدا کرے گا روح پاک

وہ حرارت تیرے ہونٹوں کی نہ ہوگی پائمالجس کے شعلوں سے نکھر جاتا ہے رنگ نونہال

وہ تری معصوم رعنائی نہ ہوگی مضمحلبخشتی ہے نسل انسانی کے پہلو کو جو دل

وہ بھی دن آئے گا جب تجھ کو ہی اے مست حجابزیب دے گا مادر اولاد آدم کا خطاب

جب کرے گی صنف نازک اپنی عریانی پہ نازصرف اک تو اس تلاطم میں رہے گی پاکباز

ان کے دل جب ہوں گے یاد معصیت سے پاش پاشتیرے رخ پر ایک بھی ہوگی نہ ماضی کی خراش

ان کی راتیں خوف رسوائی سے ہوں گی جب درازتیرے سینے میں کسی شب کا نہ ہوگا کوئی راز

دہشت فردا سے تھرائے گا جب ان کا غرورحال سے تو ہوگی راضی خوف مستقبل سے دور

جب اڑے گی ان کی چشم دام پروردہ میں خاکنرم ڈورے تیری آنکھوں کے رہیں گے تابناک

نرم ہوں گے تیرے جلوے بھی تری گفتار بھیبا حیا ہوگی تری پازیب کی جھنکار بھی

چھاؤں بھی ہوگی نہ تیری بزم ناؤ نوش میںتیرا پرتو تک رہے گا شرم کے آغوش میں

اے شعاع ارض مشرق تیری عفت کا شعارکج کرے گا ملک و ملت کی کلاہ افتخار

آبرو ہوگا گھرانے بھر کی تیرا رکھ رکھاؤدے گا تیرا باپ شان فخر سے مونچھوں پہ تاؤ

تیری آنکھوں کی کرن سے اے جہان اعتبارجگمگائے گی نسب ناموں کی لوح زر نگار

بو الہوس کا سر جھکا دے گی تری ادنیٰ جھلکہوگی لہجے میں ترے نبض طہارت کی دھمک

تیری پیشانی پہ جھلکے گا مثال برق طورطفل کا ناز شرافت اور شوہر کا غرور

علم سے ہر چند تجھ کو کم کیا ہے بہرہ مندلیکن اس سے ہو نہ اے معصوم عورت درد مند

جب ضرورت سے زیادہ ناز فرماتا ہے علمعارض تاباں کے بھولے پن کو کھا جاتا ہے علم

نطق ہو جاتا ہے علمی اصطلاحوں سے اداسلعل لب میں شہد کی باقی نہیں رہتی مٹھاس

علم اٹھا لیتا ہے بزم جاں سے شمع اعتقادخال و خد کی موت ہے چہرے کی شان اجتہاد

قعر وحشت کی طرف مڑتی ہے اکثر راہ فنجھانکتی رہتی ہے اس غرفے سے چشم اہرمن

چھوڑ دیتی تکلم کو ملائم قیل و قالعلم کا حد سے گزر جانا ہے توہین جمال

علم سے بڑھتی ہے عقل اور عقل ہے وہ بددماغجو بجھا دیتی ہے سینے میں محبت کا چراغ

علم سے باقی نہیں رہتے محبت کے صفاتاور محبت ہے فقط لے دے کے تیری کائنات

دیکھ تجھ پر علم کی بھرپور پڑ جائے نہ ضرببھاگ اس پردے میں ہیں شیطان کے آلات حرب

علم سے رہتی ہے پابند شکن جس کی جبیںناز سے شانوں پر اس کی زلف لہراتی نہیں

وقت سے پہلے بلا لیتے ہیں پیری کو علومعمر سے آگے نکل جاتے ہیں چہرے بالعموم

جن لبوں کو چاٹ پڑ جاتی ہے قیل و قال کیان کی گرمی کو ترستی ہے جبیں اطفال کی

اک جنوں پرور بگولا ہے وہ علم بے وثوقجس کی رو میں کانپنے لگتے ہیں شوہر کے حقوق

دور ہی سے ایسے علم جہل پرور کو سلامحسن نسواں کو بنا دیتا ہو جو جاگیر عام

جس جگہ حوران جنت کا کیا ہے تذکرہکیا کہا ہے اور بھی کچھ ہم نے جز حسن و حیا

تذکرہ حوروں کا ہے محض ایک تصویر جمالہم نے کیا ان کو کہا ہے ''صاحب فضل و کمال''

ہیچ ہے ہر چیز زیور غازہ افشاں رنگ و خالحسن خود اپنی جگہ ہے سو کمالوں کا کمال

چاندنی، قوس قزح، عورت، شگوفہ، لالہ زارعلم کا ان نرم شانوں پر کوئی رکھتا ہے بار؟

روشنائی میں کہیں گھلتی ہے موج ماہتابکیا کوئی اوراق گل پر طبع کرتا ہے کتاب

میرے عالم میں نہیں اس بدمذاقی کا شعارکاکل افسانہ ہو دوش حقیقت سے دو چار

حسن کا آغوش رنگیں دل فریب و دل رباعلم سے بن جائے اقلیدس کا محض اک دائرہ!

مصحف روئے کتابی روکش ناز گلاباور بن جائے یہ نعمت دفتر علم حساب

نغمۂ شیریں کے دامن میں ہو شور کائناتبزم کاوش میں جلے شمع شبستان حیات

گرم ہو تیزاب کی کھولن سے لالے کا ایاغغنچۂ نورس کا طاق اور پیر مکتب کا چراغ

شہپر بلبل پہ کھینچی جائے تصویر شغال!موتیوں پر ثبت ہو طوفان کی مہر جلال

صبح غرق بحث ہو غنچے کھلانے کے عوضدرس دیں موجیں صبا کی گنگنانے کی عوض

تو نہ کرنا مغربی متوالیوں کی ریس دیکھگھات میں تیری لگا ہے فتنۂ ابلیس دیکھ

تو نہ ان کی طرح بھرنا عرصۂ فن میں چھلانگکوکھ تا ٹھنڈی رہے بچوں سے اور صندل سے مانگ

دختران مغربی کو دے نہ عورت کا خطابیہ مجسم ہو گئے ہیں کچھ گنہ گاروں کے خواب

پھر رہی ہیں یا تری نظروں کے آگے پر فضاعورتوں کے بھیس میں شیطان کی سرتابیاں

علم حاصل کر فقط تدبیر منزل کے لیےوہ دماغوں کے لیے ہیں اور تو دل کے لیے!

— جوش ملیح آبادی