نظم 21 اشعار

مناظر سحر

Manazir-e Sahar

کیا روح فزا جلوۂ رخسار سحر ہےکشمیر دل زار ہے فردوس نظر ہے

ہر پھول کا چہرہ عرق حسن سے تر ہےہر چیز میں اک بات ہے ہر شے میں اثر ہے

ہر سمت بھڑکتا ہے رخ حور کا شعلہہر ذرۂ ناچیز میں ہے طور کا شعلہ

لرزش وہ ستاروں کی وہ ذروں کا تبسمچشموں کا وہ بہنا کہ فدا جن پہ ترنم

گردوں پہ سپیدی و سیاہی کا تصادمطوفان وہ جلووں کا وہ نغموں کا تلاطم

اڑتے ہوئے گیسو وہ نسیم سحری کےشانوں پہ پریشان ہیں یا بال پری کے

وہ پھیلنا خوشبو کا وہ کلیوں کا چٹکناوہ چاندنی مدھم وہ سمندر کا جھلکنا

وہ چھاؤں میں تاروں کی گل تر کا مہکناوہ جھومنا سبزہ کا وہ کھیتوں کا لہکنا

شاخوں سے ملی جاتی ہیں شاخیں وہ اثر ہےکہتی ہے نسیم سحری عید سحر ہے

خنکی وہ بیاباں کی وہ رنگینئ صحراوہ وادی سر سبز وہ تالاب مصفا

پیشانئ گردوں پہ وہ ہنستا ہوا تاراوہ راستے جنگل کے وہ بہتا ہوا دریا

ہر سمت گلستاں میں وہ انبار گلوں کےشبنم سے وہ دھوئے ہوے رخسار گلوں کے

وہ روح میں انوار خدا صبح وہ صادقوہ حسن جسے دیکھ کے ہر آنکھ ہو عاشق

وہ سادگی انسان کی فطرت کے مطابقزریں وہ افق نور سے لبریز وہ مشرق

وہ نغمۂ داؤد پرندوں کی صدا میںپیراہن یوسف کی وہ تاثیر ہوا میں

وہ برگ گل تازہ وہ شبنم کی لطافتاک حسن سے وہ خندۂ سامان حقیقت

وہ جلوۂ اصنام وہ بت خانے کی زینتزاہد کا وہ منظر وہ برہمن کی صباحت

ناقوس کے سینے سے صدائیں وہ فغاں کیوہ حمد میں ڈوبی ہوئی آواز اذاں کی

آقا کا غلاموں سے یہ ہے قرب کا ہنگامدل ہوتے ہیں سرشار فنا ہوتے ہیں آلام

چھا جاتی ہے رحمت تو برس پڑتے ہیں انعاماس وقت کسی طرح مناسب نہیں آرام

رونے میں جو لذت ہے تو آہوں میں مزا ہےاے روح خودی چھوڑ کہ نزدیک خدا ہے

— جوش ملیح آبادی