نظم 20 اشعار

خشک سالی

Khushk Saali

اے دل افسردہ وہ اسرار باطن کیا ہوئےسوز کی راتیں کہاں ہیں ساز کے دن کیا ہوئے

آنسوؤں کی وہ جھڑی وہ غم کا ساماں کیا ہواتیرا ساون کا مہینہ چشم گریاں کیا ہوا

کیا ہوئی بالائے سر وہ لطف یزداں کی گھٹاآسمان دل پہ وہ گھنگھور عرفاں کی گھٹا

اب وہ نالوں کی گرج ہے اب نہ وہ شور فغاںاب نہ اٹھتا ہے کلیجہ سے محبت کا دھواں

اپنے افعال سیہ پر اب پشیمانی نہیںاب پسینے کے ستارے زیب پیشانی نہیں

درد کی مدت سے اب دل میں چمک ہوتی نہیںوہ تپک چھالوں کی کوندے کی لپک ہوتی نہیں

ذکر مولیٰ سے لبوں پر اب وہ نرمی ہی نہیںبھاپ سینے سے اٹھے کیا دل میں گرمی ہی نہیں

اب شرارے سوز غم کے دل میں رہتے ہی نہیںاشک اب پچھلے پہر آنکھوں سے بہتے ہی نہیں

معرفت دل میں نہ اب وہ روح میں احساس ہےلوگ کہتے ہیں کہ ہے لیکن ہمیں تو یاس ہے

اب نہ وہ آنکھوں میں اشک خوں نہ وہ دل میں گدازاب نہ وہ شام تمنا ہے نہ وہ صبح نیاز

خشک ہیں آنکھیں جبینیں تنگ سینے سرد ہیںاب نہ وہ دکھتے ہوئے دل ہیں نہ چہرے زرد ہیں

آہ کی اور دل امنڈ آیا یہ ہوتا ہی نہیںڈوب کر ذوق فنا میں کوئی روتا ہی نہیں

پھول داغوں سے کھلے تھے جس دل سرشار میںخاک اب مدت سے اڑتی ہے اسی گل زار میں

آنسوؤں سے نم جو رہتا تھا وہ داماں جل گیالہلہاتا تھا جو سینے میں گلستاں جل گیا

روح میں بالیدگی کی قوتیں معدوم ہیںدونوں آنکھیں آنسوؤں کے فیض سے محروم ہیں

پیچ و خم سے بہنے والا دل کا دریا خشک ہےوہ بھری برسات یعنی چشم بینا خشک ہے

خون ہے دل میں مگر پہلی سی طغیانی نہیںابر ہے باد مخالف سے مگر پانی نہیں

جب یہ عالم ہے تو بارش کی شکایت کس لئےبے محل یہ حسرت باران رحمت کس لئے

اک مجسم خشک سالی خود ہماری ذات ہےضد ہماری ہستیوں کی ابر ہے برسات ہے

رحمتوں سے جوش میں آنے کی خواہش کیا کریںخود سراپا قحط ہیں امید بارش کیا کریں

— جوش ملیح آبادی