غزل 11 اشعار

للہ الحمد کہ دل شعلہ فشاں ہے اب تک

Lillah al-hamd ke dil shola-fishan hai ab tak

للہ الحمد کہ دل شعلہ فشاں ہے اب تکپیر ہے جسم مگر طبع جواں ہے اب تک

برف باری ہے مہ و سال کی سر پر لیکنخون میں گرمئ پہلوئے بتاں ہے اب تک

سر پہ ہر چند مہ و سال کا غلطاں ہے غبارفکر میں تاب و تب کاہکشاں ہے اب تک

کب سے نبضوں میں وہ جھنکار نہیں ہے پھر بھیشعر میں زمزۂ آب رواں ہے اب تک

للہ الحمد کہ دربار خرابات کی خاکسرمۂ دیدۂ صاحب نظراں ہے اب تک

زندگی کب سے ہے کانٹوں کی تجارت سے فگارپھر بھی تخئیل میں پھولوں کی دکاں ہے اب تک

فرق پر وقت کا پتھراؤ ہے کب سے جاریذہن میں کار گہہ شیشہ گراں ہے اب تک

کس سے کہیے کہ بہ ایں فکر مرا تار وجودزخمۂ غیب سے لرزاں و تپاں ہے اب تک

کب سے ہوں منکر گلبانگ ملائک پھر بھیدل پہ جبریل کی دستک کا گماں ہے اب تک

کب سے ہوں بستۂ ناقوس و مزامیر بتاںپھر بھی سینے میں کوئی گرم اذاں ہے اب تک

سخت حیراں ہوں کہ اس کفر کے جنگل میں بھی جوشؔچشم یزداں مری جانب نگراں ہے اب تک

— جوش ملیح آبادی