غزل 9 اشعار

گداز دل سے باطن کا تجلی زار ہو جانا

Gudaz dil se batin ka tajalli zar ho jana

گداز دل سے باطن کا تجلی زار ہو جانامحبت اصل میں ہے روح کا بیدار ہو جانا

نوید عیش سے اے دل ذرا ہشیار ہو جاناکسی تازہ مصیبت کے لیے تیار ہو جانا

وہ ان کے دل میں شوق خودنمائی کا خیال آناوہ ہر شے کا تبسم کے لیے تیار ہو جانا

مزاج حسن کو اب بھی نہ سمجھو تو قیامت ہےہمارا اور وفا کے نام سے بے زار ہو جانا

سحر کا اس طرح انگڑائی لینا دل فریبی سےادھر شاعر کے محسوسات کا بیدار ہو جانا

توسل سے ترے دل میں بھروں گا قوتیں برقیذرا میری طرف بھی اے نگاہ یار ہو جانا

وہ آرائش میں سب قوت کسی کا صرف کر دیناتحمل میں وہ ہر کوشش مری بے کار ہو جانا

معاذ اللہ اب یہ رنگ ہے دنیا کی محفل کاخدا کا نام لینا اور ذلیل و خوار ہو جانا

رگوں سے خون سارا زہر بن کر پھوٹ نکلے گاذرا اے جوشؔ ضبط شوق سے ہشیار ہو جانا

— جوش ملیح آبادی