غزل 9 اشعار

ملا جو موقع تو روک دوں گا جلالؔ روز حساب تیرا

Mila jo mauqa to rok doon ga Jalal roz-e-hisaab tera

ملا جو موقع تو روک دوں گا جلالؔ روز حساب تیراپڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا

یہی تو ہیں دو ستون محکم انہیں پہ قائم ہے نظم عالمیہی تو ہے راز خلد و آدم نگاہ میری شباب تیرا

صبا تصدق ترے نفس پر چمن ترے پیرہن پہ قرباںنسیم دوشیزگی میں کیسا بسا ہوا ہے شباب تیرا

تمام محفل کے روبرو گو اٹھائیں نظریں ملائیں آنکھیںسمجھ سکا ایک بھی نہ لیکن سوال میرا جواب تیرا

ہزار شاخیں ادا سے لچکیں ہوا نہ تیرا سا لوچ پیداشفق نے کتنے ہی رنگ بدلے ملا نہ رنگ شباب تیرا

ادھر مرا دل تڑپ رہا ہے تری جوانی کی جستجو میںادھر مرے دل کی آرزو میں مچل رہا ہے شباب تیرا

کرے گی دونوں کا چاک پردہ رہے گا دونوں کو کر کے رسوایہ شورش ذوق دید میری یہ اہتمام حجاب تیرا

جڑیں پہاڑوں کی ٹوٹ جاتیں فلک تو کیا عرش کانپ اٹھتااگر میں دل پر نہ روک لیتا تمام زور شباب تیرا

بھلا ہوا جوشؔ نے ہٹایا نگاہ کا چشم تر سے پردہبلا سے جاتی رہیں گر آنکھیں کھلا تو بند نقاب تیرا

— جوش ملیح آبادی