غزل 12 اشعار

پھر سر کسی کے در پہ جھکائے ہوئے ہیں ہم

Phir sar kisi ke dar pe jhukaye hue hain hum

پھر سر کسی کے در پہ جھکائے ہوئے ہیں ہمپردے پھر آسماں کے اٹھائے ہوئے ہیں ہم

چھائی ہوئی ہے عشق کی پھر دل پہ بے خودیپھر زندگی کو ہوش میں لائے ہوئے ہیں ہم

جس کا ہر ایک جزو ہے اکسیر زندگیپھر خاک میں وہ جنس ملائے ہوئے ہیں ہم

ہاں کون پوچھتا ہے خوشی کا نہفتہ رازپھر غم کا بار دل پہ اٹھائے ہوئے ہیں ہم

ہاں کون درس عشق جنوں کا ہے خواست گارآئے کہ ہر سبق کو بھلائے ہوئے ہیں ہم

آئے جسے ہو جادۂ رفعت کی آرزوپھر سر کسی کے در پہ جھکائے ہوئے ہیں ہم

بیعت کو آئے جس کو ہو تحقیق کا خیالکون و مکاں کے راز کو پائے ہوئے ہیں ہم

ہستی کے دام سخت سے اکتا گیا ہے کونکہہ دو کہ پھر گرفت میں آئے ہوئے ہیں ہم

ہاں کس کے پائے دل میں ہے زنجیر آب و گلکہہ دو کہ دام زلف میں آئے ہوئے ہیں ہم

ہاں کس کو جستجو ہے نسیم فراغ کیآسودگی کو آگ لگائے ہوئے ہیں ہم

ہاں کس کو سیر ارض و سما کا ہے اشتیاقدھونی پھر اس گلی میں رمائے ہوئے ہیں ہم

جس پر نثار کون و مکاں کی حقیقتیںپھر جوشؔ اس فریب میں آئے ہوئے ہیں ہم

— جوش ملیح آبادی