نظم 21 اشعار

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے خطاب

Muslim University Aligarh Se Khitaab

اے علی گڑھ اے جواں قسمت دبستان کہنعقل کے فانوس سے روشن ہے تیری انجمن

حشر کے دن تک پھلا پھولا رہے تیرا چمنتیرے پیمانوں میں لرزاں ہے شراب علم و فن

روح سر سیدؔ سے روشن تیرا مے خانہ رہےرہتی دنیا تک ترا گردش میں پیمانہ رہے

ایک دن ہم بھی تری آنکھوں کے بیماروں میں تھےتیری زلف خم نجم کے نو گرفتاروں میں تھے

تیری جنس علم پرور کے خریداروں میں تھےجان و دل سے تیرے جلووں کے پرستاروں میں تھے

موج کوثر تھا ترا سیل ادا اپنے لئےآب حیواں تھی تیری آب و ہوا اپنے لئے

علم کا پہلا سبق تو نے پڑھایا تھا ہمیںکس طرح جیتے ہیں تو نے ہی بتایا تھا ہمیں

خواب سے طفلی کے تو نے ہی جگایا تھا ہمیںناز سے پروان تو نے ہی چڑھایا تھا ہمیں

موسم گل کی خبر تیری زبانی آئی تھیتیرے باغوں میں ہوا کھا کر جوانی آئی تھی

لیکن اے علم و جسارت کے درخشاں آفتابکچھ بہ الفاظ دگر بھی تجھ سے کرنا ہے خطاب

گو یہ دھڑکا ہے کہ ہوں گا مورد قہر و عتابکہہ بھی دوں جو کچھ ہے دل میں تا کجا یہ پیچ و تاب

بن پڑے جو سعی اپنے سے وہ کرنا چاہئےمرد کو کہنے کے موقع پہ نہ ڈرنا چاہئے

اے علی گڑھ اے ہلاک تابش وضع فرنگٹیمز ہے آغوش میں تیرے بجائے موج گنگ

وادیٔ مغرب میں گم ہے تیرے دل کی ہر امنگولولوں میں تیرے شاید عرصۂ مشرق ہے تنگ

کب ہے مغرب کعبۂ حاجت روا تیرے لئےآ کہ ہے بے چین روح ایشیا تیرے لئے

کشتۂ مغرب نگار شرق کے ابرو بھی دیکھساز بے رنگی کے جویا سوز رنگ و بو بھی دیکھ

نرگس ارزق کے شیدا دیدۂ آہو بھی دیکھاے سنہری زلف کے قیدی سیہ گیسو بھی دیکھ

کر چکا سیر اصل مرکز پر تو آنا چاہئےاپنے گھر کی سمت بھی آنکھیں اٹھانا چاہئے

پختہ کاری سیکھ یہ آئین خامی تا کجاجادۂ افرنگ پر یوں تیز گامی تا کجا

سوچ تو جی میں یہ جھوٹی نیک نامی تا کجامغربی تہذیب کا طوق غلامی تا کجا

مرد اگر ہے غیر کی تقلید کرنا چھوڑ دےچھوڑ دے للہ بالاقساط مرنا چھوڑ دے

— جوش ملیح آبادی