نظم 9 اشعار

البیلی صبح

Albeli Subah

نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہےسحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا رہی ہے

روش روش نغمۂ طرب ہے چمن چمن جشن رنگ و بو ہےطیور شاخوں پہ ہیں غزل خواں کلی کلی گنگنا رہی ہے

ستارۂ صبح کی رسیلی جھپکتی آنکھوں میں ہیں فسانےنگار مہتاب کی نشیلی نگاہ جادو جگا رہی ہے

طیور بزم سحر کے مطرب لچکتی شاخوں پہ گا رہے ہیںنسیم فردوس کی سہیلی گلوں کو جھولا جھلا رہی ہے

کلی پہ بیلے کی کس ادا سے پڑا ہے شبنم کا ایک موتینہیں یہ ہیرے کی کیل پہنے کوئی پری مسکرا رہی ہے

سحر کو مد نظر ہیں کتنی رعایتیں چشم خوں فشاں کیہوا بیاباں سے آنے والی لہو میں سرخی بڑھا رہی ہے

شلوکا پہنے ہوئے گلابی ہر اک سبک پنکھڑی چمن میںرنگی ہوئی سرخ اوڑھنی کا ہوا میں پلو سکھا رہی ہے

فلک پہ اس طرح چھپ رہے ہیں ہلال کے گرد و پیش تارےکہ جیسے کوئی نئی نویلی جبیں سے افشاں چھڑا رہی ہے

کھٹک یہ کیوں دل میں ہو چلی پھر چٹکتی کلیو؟ ذرا ٹھہرناہوائے گلشن کی نرم رو میں یہ کسی کی آواز آ رہی ہے؟

— جوش ملیح آبادی