نظم 110 اشعار

پند نامہ

Pand Nama

اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجاز

اے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروش

اے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواں

تجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دل

اے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیال

اے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد باز

ناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے تو

تجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانے

خود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کر

شاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہے

صرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداں

ایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے تو

ننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونا

استخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوست

شرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیم

جسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہے

جو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہے

ہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہے

کثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہے

خوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہے

اور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہے

مے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موت

کان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تر

اس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرسام

اس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہے

یہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہے

گوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارے

غم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاط

غم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمار

آن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہے

جوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیں

ہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرت

دیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کا

کاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہے

ساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہ

روک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائے

تیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہو

مستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہ

خوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہ

ہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرام

جام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیں

زندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیں

یاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھے

میری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیں

عقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستی

اف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطان

لات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبو

طنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایراد

شور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قے

مس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصر

چل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑ

لپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائی

کھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچل

الجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھن

دھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکرار

بو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمال

گاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنام

عقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستی

صرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیں

الاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہ

اژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''

نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی رات

نشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلط

ذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلال

غرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کر

رات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارے

دن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکار

دن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاں

دن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہ

دن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنم

دن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑے

دن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگی

دن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھ

دن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسار

آفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیری

کر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو رات

پی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جام

وہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابند

میرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباں

اس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہے

یہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہا

باغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلے

سرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگا

منہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھ

گاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھ

جیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنو

گل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سے

جسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درود

پھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں مار

دیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہ

مست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سن

بوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھ

شبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاس

شاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پر

رقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہر

جذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازار

نرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پی

گن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پی

تاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیات

یہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہے

غیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طور

ایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کا

درخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیں

شادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتا

اے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آواز

کوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتا

خدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پر

عصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیار

ذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جا

تجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے

— جوش ملیح آبادی