نظم 15 اشعار

بیتے ہوئے دن

Beete Huay Din

کیا حال کہیں اس موسم کاجب جنس جوانی سستی تھی

جس پھول کو چومو کھلتا تھاجس شے کو دیکھو ہنستی تھی

جینا سچا جینا تھاہستی عین ہستی تھی

افسانہ جادو افسوں تھاغفلت نیندیں مستی تھی

ان بیتے دنوں کی بات ہے یہجب دل کی بستی بستی تھی

غفلت نیندیں ہستی تھیآنکھیں کیا پیمانے تھے

ہر روز جوانی بکتی تھیہر شام و سحر بیعانے تھے

ہر خار میں اک بت خانہ تھاہر پھول میں سو مے خانے تھے

کالی کالی زلفیں تھیںگورے گورے شانے تھے

ان بیتے دنوں کی بات ہے یہجب دل کی بستی بستی تھی

گورے گورے شانے تھےہلکی پھلکی بانہیں تھیں

ہر گام پہ خلوت خانے تھےہر موڑ پہ عشرت گاہیں تھیں

طغیان خوشی کے آنسو تھےتکمیل طرب کی آہیں تھیں

عشوے چہلیں غمزے تھےپلتیں خوشیاں چاہیں تھیں

ان بیتے دنوں کی بات ہے یہجب دل کی بستی بستی تھی

— جوش ملیح آبادی