غزل 12 اشعار

پھر آشنائے لذت درد جگر ہیں ہم

Phir aashna-e-lazzat-e-dard-e-jigar hain hum

پھر آشنائے لذت درد جگر ہیں ہمپھر محرم کشاکش ہر خیر و شر ہیں ہم

ہر سانس دے رہی ہے خبر کائنات کیپھر بادۂ جمال سے یوں بے خبر ہیں ہم

پھر عشق کی نظر میں ہے معشوقیت کا نازپھر حسن دل نواز سے شیر و شکر ہیں ہم

جینے کے اشتیاق سے ہے پھر رمیدگیپھر سینۂ حیات میں عزم سفر ہیں ہم

ہشیار باش ظلمت غم خانۂ حیاتپھر مرکز تجلئ شمس و قمر ہیں ہم

کس زعم میں ہے اے شب دیجور زندگیپھر رازدار نور طلوع سحر ہیں ہم

ہے کس خیال خام میں اے خارزار دہرپھر کامران خندۂ گل ہائے تر ہیں ہم

پھر زندگی ہے غم کی امانت لیے ہوئےہر دولت نشاط سے پھر بہرہ ور ہیں ہم

پھر فیض عاشقی سے بہ ایں بے بضاعتیجیب جہاں میں دولت لعل و گہر ہیں ہم

پھر باوجود فقر وہ حاصل ہے طمطراقتو یہ کہے کہ صاحب تاج و کمر ہیں ہم

آنکھوں میں نور مصحف جاناں لیے ہوئےپھر کردگار عشق کے پیغام بر ہیں ہم

کھلتے نہیں ہیں جوشؔ دماغوں پہ دل کے رازبالاتر از رسائی نقد و نظر ہیں ہم

— جوش ملیح آبادی