غزل 11 اشعار

آ فصل گل ہے غرق تمنا ترے لیے

Aa fasl-e-gul hai gharq-e-tamanna tere liye

آ فصل گل ہے غرق تمنا ترے لیےڈوبا ہوا ہے رنگ میں صحرا ترے لیے

ساحل پہ سرو ناز کو دے زحمت خرامبل کھا رہا ہے خاک پہ دریا ترے لیے

ایفائے عہد کر کہ ہے مدت سے بیقرارروح وفائے وعدۂ فردا ترے لیے

شانوں پہ اب تو کاکل شب رنگ کھول دےبکھری ہوئی ہے زلف تمنا ترے لیے

اٹھ چشم جاودانۂ ساغر فروش اٹھمچلی ہوئی ہے لرزش صہبا ترے لیے

اے آفتاب جلوۂ جاناں بلند ہوکھویا ہوا ہے مطلع دنیا ترے لیے

موج شمیم سنبل و ریحاں کے درمیاںوا ہے مصاحبت کا دریچا ترے لیے

آ اور داد دے کہ بہ ایں چشم حق نگرکھائے ہوئے ہوں زیست کا دھوکا ترے لیے

سبزے کا فرش ابر کا خیمہ گلوں کا عطرگلشن میں اہتمام ہے کیا کیا ترے لیے

طغیان گل شباب پہ بلبل خروش میںاک حشر سا ہے باغ میں برپا ترے لیے

جوشؔ اور ننگ خدمت سلطان و پاس ہوشیہ بھی کیے ہوئے ہے گوارا ترے لیے

— جوش ملیح آبادی