غزل 9 اشعار

سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا

Soz-e-gham de ke mujhe us ne yeh irshad kiya

سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیاجا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا

وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہجن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا

دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیاجب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا

اے میں سو جان سے اس طرز تکلم کے نثارپھر تو فرمائیے کیا آپ نے ارشاد کیا

اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباداس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا

اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکیجھک کے میں نے یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا

میری ہر سانس ہے اس بات کی شاہد اے موتمیں نے ہر لطف کے موقع پہ تجھے یاد کیا

مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شایدلوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا

کچھ نہیں اس کے سوا جوشؔ حریفوں کا کلاموصل نے شاد کیا ہجر نے ناشاد کیا

— جوش ملیح آبادی