غزل 14 اشعار

میری حالت دیکھیے اور ان کی صورت دیکھیے

Meri haalat dekhiye aur un ki surat dekhiye

میری حالت دیکھیے اور ان کی صورت دیکھیےپھر نگاہ غور سے قانون قدرت دیکھیے

سیر مہتاب و کواکب سے تبسم تابکےرو رہی ہے وہ کسی کی شمع تربت دیکھیے

آپ اک جلوہ سراسر میں سراپا اک نظراپنی حاجت دیکھیے میری ضرورت دیکھیے

اپنے سامان تعیش سے اگر فرصت ملےبیکسوں کا بھی کبھی طرز معیشت دیکھیے

مسکرا کر اس طرح آیا نہ کیجے سامنےکس قدر کمزور ہوں میں، میری صورت دیکھیے

آپ کو لایا ہوں ویرانوں میں عبرت کے لیےحضرت دل دیکھیے اپنی حقیقت دیکھیے

صرف اتنے کے لیے آنکھیں ہمیں بخشی گئیںدیکھیے دنیا کے منظر اور بہ عبرت دیکھیے

موت بھی آئی تو چہرے پر تبسم ہی رہاضبط پر ہے کس قدر ہم کو بھی قدرت دیکھیے

یہ بھی کوئی بات ہے ہر وقت دولت کا خیالآدمی ہیں آپ اگر تو آدمیت دیکھیے

پھوٹ نکلے گا جبیں سے ایک چشمہ حسن کاصبح اٹھ کر خندۂ سامان قدرت دیکھیے

رشحۂ شبنم بہار گل فروغ مہر و ماہواہ کیا اشعار ہیں دیوان فطرت دیکھیے

اس سے بڑھ کر اور عبرت کا سبق ممکن نہیںجو نشاط زندگی تھے ان کی تربت دیکھیے

تھی خطا ان کی مگر جب آ گئے وہ سامنےجھک گئیں میری ہی آنکھیں رسم الفت دیکھیے

خوش نما یا بد نما ہو دہر کی ہر چیز میںجوشؔ کی تخئیل کہتی ہے کہ ندرت دیکھیے

— جوش ملیح آبادی