نظم 27 اشعار

وطن

Watan

اے وطن پاک وطن روح روان احراراے کہ ذروں میں ترے بوئے چمن رنگ بہار

اے کہ خوابیدہ تری خاک میں شاہانہ وقاراے کہ ہر خار ترا رو کش صد روئے نگار

ریزے الماس کے تیرے خس و خاشاک میں ہیںہڈیاں اپنے بزرگوں کی تری خاک میں ہیں

پائی غنچوں میں ترے رنگ کی دنیا ہم نےتیرے کانٹوں سے لیا درس تمنا ہم نے

تیرے قطروں سے سنی قرأت دریا ہم نےتیرے ذروں میں پڑھی آیت صحرا ہم نے

کیا بتائیں کہ تری بزم میں کیا کیا دیکھاایک آئینے میں دنیا کا تماشہ دیکھا

تیری ہی گردن رنگیں میں ہیں بانہیں اپنیتیرے ہی عشق میں ہیں صبح کی آہیں اپنی

تیرے ہی حسن سے روشن ہیں نگاہیں اپنیکج ہوئیں تیری ہی محفل میں کلاہیں اپنی

بانکپن سیکھ لیا عشق کی افتادوں سےدل لگایا بھی تو تیرے ہی پری زادوں سے

پہلے جس چیز کو دیکھا وہ فضا تیری تھیپہلے جو کان میں آئی وہ صدا تیری تھی

پالنا جس نے ہلایا وہ ہوا تیری تھیجس نے گہوارے میں چوما وہ صبا تیری تھی

اولیں رقص ہوا مست گھٹائیں تیریبھیگی ہیں اپنی مسیں آب و ہوا میں تیری

اے وطن آج سے کیا ہم ترے شیدائی ہیںآنکھ جس دن سے کھلی تیرے تمنائی ہیں

مدتوں سے ترے جلووں کے تماشائی ہیںہم تو بچپن سے ترے عاشق و سودائی ہیں

بھائی طفلی سے ہر اک آن جہاں میں تیریبات تتلا کے جو کی بھی تو زباں میں تیری

حسن تیرے ہی مناظر نے دکھایا ہم کوتیری ہی صبح کے نغموں نے جگایا ہم کو

تیرے ہی ابر نے جھولوں میں جھلایا ہم کوتیرے ہی پھولوں نے نو شاہ بنایا ہم کو

خندۂ گل کی خبر تیری زبانی آئیتیرے باغوں میں ہوا کھا کے جوانی آئی

تجھ سے منہ موڑ کے منہ اپنا دکھائیں گے کہاںگھر جو چھوڑیں گے تو پھر چھاؤنی چھائیں گے کہاں

بزم اغیار میں آرام یہ پائیں گے کہاںتجھ سے ہم روٹھ کے جائیں بھی تو جائیں گے کہاں

تیرے ہاتھوں میں ہے قسمت کا نوشتہ اپناکس قدر تجھ سے بھی مضبوط ہے رشتہ اپنا

اے وطن جوش ہے پھر قوت ایمانی میںخوف کیا دل کو سفینہ ہے جو طغیانی میں

دل سے مصروف ہیں ہر طرح کی قربانی میںمحو ہیں جو تری کشتی کی نگہبانی میں

غرق کرنے کو جو کہتے ہیں زمانے والےمسکراتے ہیں تری ناؤ چلانے والے

ہم زمیں کو تری ناپاک نہ ہونے دیں گےتیرے دامن کو کبھی چاک نہ ہونے دیں گے

تجھ کو جیتے ہیں تو غم ناک نہ ہونے دیں گےایسی اکسیر کو یوں خاک نہ ہونے دیں گے

جی میں ٹھانی ہے یہی جی سے گزر جائیں گےکم سے کم وعدہ یہ کرتے ہیں کہ مر جائیں گے

— جوش ملیح آبادی