نظم 9 اشعار

بدلی کا چاند

Badli ka Chand

خورشید وہ دیکھو ڈوب گیا ظلمت کا نشاں لہرانے لگامہتاب وہ ہلکے بادل سے چاندی کے ورق برسانے لگا

وہ سانولے پن پر میداں کے ہلکی سی صباحت دوڑ چلیتھوڑا سا ابھر کر بادل سے وہ چاند جبیں جھلکانے لگا

لو پھر وہ گھٹائیں چاک ہوئیں ظلمت کا قدم تھرانے لگابادل میں چھپا تو کھول دیے بادل میں دریچے ہیرے کے

گردوں پہ جو آیا تو گردوں دریا کی طرح لہرانے لگاسمٹی جو گھٹا تاریکی میں چاندی کے سفینے لے کے چلا

سنکی جو ہوا تو بادل کے گرداب میں غوطے کھانے لگاغرفوں سے جو جھانکا گردوں کے امواج کی نبضیں تیز ہوئیں

حلقوں میں جو دوڑا بادل کے کہسار کا سر چکرانے لگاپردہ جو اٹھایا بادل کا دریا پہ تبسم دوڑ گیا

چلمن جو گرائی بدلی کی میدان کا دل گھبرانے لگاابھرا تو تجلی دوڑ گئی ڈوبا تو فلک بے نور ہوا

الجھا تو سیاہی دوڑا دی سلجھا تو ضیا برسانے لگےکیا کاوش نور و ظلمت ہے کیا قید ہے کیا آزادی ہے

انساں کی تڑپتی فطرت کا مفہوم سمجھ میں آنے لگا

— جوش ملیح آبادی