غزل 8 اشعار

یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی

Yoon dhal gaya hai dard mein darmaan kabhi kabhi

یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھینغمے بنے ہیں گریۂ پنہاں کبھی کبھی

ہونکی ہیں باد صبح کی رو میں بھی آندھیاںابلا ہے ساحلوں سے بھی طوفاں کبھی کبھی

بڑھتا چلا گیا ہوں انہی کی طرف کچھ اوریوں بھی ہوا ہوں ان سے گریزاں کبھی کبھی

آنچوں میں گنگناتے ہیں گلزار گاہ گاہشعلوں سے پٹ گیا ہے گلستاں کبھی کبھی

لے سے نکل پڑی ہے کبھی ہچکیوں کی فوجآہیں بنی ہیں راگ کا عنواں کبھی کبھی

دامان گل رخاں کی اڑا دی ہیں دھجیاںپھاڑا ہے ہم نے یوں بھی گریباں کبھی کبھی

کلیاں جھلس گئی ہیں دہکنے لگے ہیں پھولیوں بھی چلی ہے باد بہاراں کبھی کبھی

اس وقت بھی کہ خاطر مجموعہ تھی نصیبکم بخت دل ہوا ہے پریشاں کبھی کبھی

— جوش ملیح آبادی