غزل 9 اشعار

تجربے کے دشت سے دل کو گزرنے کے لیے

Tajarbe ke dasht se dil ko guzarne ke liye

تجربے کے دشت سے دل کو گزرنے کے لیےروز اک صورت نئی ہے غور کرنے کے لیے

جب کوئی بنتا ہے لاکھوں ہستیوں کو میٹ کرصبح تاروں کو دباتی ہے ابھرنے کے لیے

حامل اسرار فطرت ہوں گدا بھی ہوں تو کیابات یہ کافی ہے مجھ کو فخر کرنے کے لیے

روح کو چمکا خودی کو توڑ کر زینے بنادو یہ تدبیریں ہیں دنیا میں ابھرنے کے لیے

غور سے دیکھا نظام دہر تو ثابت ہواآدمی پیدا ہوا ہے کام کرنے کے لیے

صبح اٹھ کر آنسوؤں سے خون کے روتا ہوں میںدل کے نقشے میں وفا کا رنگ بھرنے کے لیے

گوہر مقصود خود ملتا ہے ہمت شرط ہےمضطرب رہتا ہے ہر موتی ابھرنے کے لیے

آنکھ شرمائی ہوئی ہے بال پیشانی پہ ہیںآئینہ خانے میں جاتے ہیں سنورنے کے لیے

کہہ دو دنیا کے حوادث سے نہ چھیڑیں اس طرحجوشؔ ہم تیار ہی بیٹھے ہیں مرنے کے لیے

— جوش ملیح آبادی