وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد
کلام: کیفی اعظمی
وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعدداد سخن ملی مجھے ترک سخن کے بعد
دیوانہ وار چاند سے آگے نکل گئےٹھہرا نہ دل کہیں بھی تری انجمن کے بعد
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعدداد سخن ملی مجھے ترک سخن کے بعد
دیوانہ وار چاند سے آگے نکل گئےٹھہرا نہ دل کہیں بھی تری انجمن کے بعد
چاند ٹوٹا پگھل گئے تارےقطرہ قطرہ ٹپک رہی ہے رات
پلکیں آنکھوں پہ جھکتی آتی ہیںانکھڑیوں میں کھٹک رہی ہے رات