کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے
کلام: کیفی اعظمی
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے
یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہےیہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہے
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہےوہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے
یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہےیہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہے
لب لعل پہ مرتعش مرتعش سےیہ کچھ سمٹی سمٹی سی ہونٹوں کی لالی
یہ کچھ بہکی بہکی سی سفاک نظریںیہ کچھ سہمی سہمی سی فرخندہ حالی