بہارو میرا جیون بھی سنوارو
کلام: کیفی اعظمی
بہارو میرا جیون بھی سنواروکوئی آئے کہیں سے یوں پکارو
تمہیں سے دل نے سیکھا ہے تڑپناتمہیں کو دوش دوں گی اے نظارو
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
بہارو میرا جیون بھی سنواروکوئی آئے کہیں سے یوں پکارو
تمہیں سے دل نے سیکھا ہے تڑپناتمہیں کو دوش دوں گی اے نظارو
مکانآج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے
آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گیسب اٹھو،میں بھی اٹھوں،تم بھی اٹھو،تم بھی اٹھو