عورت
کلام: کیفی اعظمی
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آج
حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آج
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آج
حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آج
روز بڑھتا ہوں جہاں سے آگےپھر وہیں لوٹ کے آ جاتا ہوں
بارہا توڑ چکا ہوں جن کوانہیں دیواروں سے ٹکراتا ہوں
نذرانہتم پریشان نہ ہو، بابِ کرم وا نہ کرو
اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گااسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں