9 اشعار

بیمار محبت ہوں ترساؤ نہ صورت کو

Bemaar-e-mohabbat hoon tarsao na surat ko

بیمار محبت ہوں ترساؤ نہ صورت کو

«بیمار محبت ہوں ترساؤ نہ صورت کو» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

بیمار محبت ہوں ترساؤ نہ صورت کوبھولے سے کبھی آؤ تم بھی تو عیادت کو

مختار ہو تم صاحب جو چاہو کرو لیکناتنا بھی ستانا کیا مجبور محبت کو

اس قادر مطلق کے بندے ہی جو ہم ٹھہرےہنستے ہوئے سہنا ہے ہر جبر مشیت کو

جس حال میں وہ رکھیں اس حال میں ہم خوش ہیںمدت ہوئی دفنائے احساس مصیبت کو

جو غم میں مسرت کی گھلنے کو ہوئے پیدابد بخت وہ کیا جانیں خود غم کی مسرت کو

اک بعد خیالی سے ہٹ کر غم فرقت کیامفلوج نہ ہونے دو احساس معیت کو

وہ پشت پناہی پر آ جاتے ہیں قوت سےچھیڑے نہ کوئی ان کے پروردۂ نسبت کو

سرکار کے بندے کا بس دل ہی بھر آنا ہےآنکھوں کی نمی بس ہے تحریک عنایت کو

افسانۂ ہستی میں مضمر ہے حقیقت بھیبھولو نہ کہیں کاملؔ تم اپنی حقیقت کو

— کامل شطاری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں