15 اشعار

تمنا دو دلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہے

Tamanna do dilon ki ek hi maloom hoti hai

تمنا دو دلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہے

«تمنا دو دلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ ہے۔

تمنا دو دلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہےاب ان کی ہر خوشی اپنی خوشی معلوم ہوتی ہے

دلوں پر سب کے اک افسردگی معلوم ہوتی ہےتری محفل میں یہ کس کی کمی معلوم ہوتی ہے

سمجھ کی چال چل جاتا ہے دیوانہ محبت کابظاہر وہ بھی اک دیوانگی معلوم ہوتی ہے

بجا ہنستا ہے گر ہنستا ہے کوئی میرے جینے پرمجھے خود زندگی اپنی ہنسی معلوم ہوتی ہے

جہاں قدرت کسی سے پھیر لیتی ہے نظر اپنیوہیں انسان کی بے مائیگی معلوم ہوتی ہے

یقیں محکم عزائم آہنی سعی و عمل پیہمانہیں سے آدمی کی زندگی معلوم ہوتی ہے

کمینے رخ بدلتے ہیں ہوا پر تو کمینے ہیںشریفوں میں یہ کمزوری بری معلوم ہوتی ہے

ذرا ٹھہرو مرے آنسو تو پورے خشک ہونے دوابھی آنکھوں میں تھوڑی سی نمی معلوم ہوتی ہے

ادھر تو آ ذرا منہ چوم لوں قربان ہو جاؤںادائے برہمی بھی کیا بھلی معلوم ہوتی ہے

یہی دل کی لگی کیا جانے کیا کیا رنگ لائے گیابھی تو آپ کو اک دل لگی معلوم ہوتی ہے

کسی کا ہر تبسم دل کے حق میں گھاؤ ہے تازہپرانی چوٹ بھی ابھری ہوئی معلوم ہوتی ہے

کھلونا ہے دل مجبور الفت ان کے ہاتھوں کامحبت کی اسی سے سادگی معلوم ہوتی ہے

گھسیٹے جاتے ہیں کانٹوں میں ان کے چاہنے والےخدا جانے محبت کیوں بری معلوم ہوتی ہے

جبین شوق کا جب رابطہ ہو ان کے قدموں سےانہیں سجدوں میں شان بندگی معلوم ہوتی ہے

تصرف دید کے قابل ہے کاملؔ چشم ساقی کانظر ملتے ہی دنیا دوسری معلوم ہوتی ہے

— کامل شطاری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں