10 اشعار

ہے کدھر قبلہ بتاؤ کس طرف سر خم رہے

Hai kidhar qibla batao kis taraf sar kham rahe

ہے کدھر قبلہ بتاؤ کس طرف سر خم رہے

«ہے کدھر قبلہ بتاؤ کس طرف سر خم رہے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

ہے کدھر قبلہ بتاؤ کس طرف سر خم رہےمیری نظروں میں تو ہر سو قبلۂ عالم رہے

زندگی جیسی بھی کچھ ہو جو بھی کچھ عالم رہےدم بھرے جائیں گے تیرا دم میں جب تک دم رہے

داغ دل زخم جگر سے اور کچھ مطلب نہیںبات صرف اتنی ہے کوئی یادگار غم رہے

کس نے محسوسات کی دنیا کو بخشی آگہیچاہنے والوں میں پہلے تم رہے یا ہم رہے

دیدۂ تر اک علامت ہے حیات عشق کیدل میں خود دھڑکن رہے گی چشم جب تک نم رہے

اس حسیں الجھن سے سو سو حسن پیدا کیوں نہ ہوںزلف کی ہر برہمی پر جب کوئی برہم رہے

عزم و استقلال ہے شرط مقدم عشق میںکوئی جادہ کیوں نہ ہو انسان اس پر جم رہے

دور جانا ہے تجھے اک بات سن لے دور کیخوش مسافر آں کہ می دارد بغربت ہمرہے

بن گئیں خود آفت جاں اپنی گوناگونیاںعشق ہو یا حسن ہر پردے کے پیچھے ہم رہے

میری پہلی پرورش تقدیس کی آغوش میںقدسیوں کے سر بھی کاملؔ میرے آگے خم رہے

— کامل شطاری