7 اشعار

ہر اک اعتبار سے آج تک ہوں فقط فریب خیال میں

Har ek aitbaar se aaj tak hoon faqat fareb-e-khayal mein

ہر اک اعتبار سے آج تک ہوں فقط فریب خیال میں

«ہر اک اعتبار سے آج تک ہوں فقط فریب خیال میں» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

ہر اک اعتبار سے آج تک ہوں فقط فریب خیال میںمری زندگی کا شمار ہے نہ فراق میں نہ وصال میں

کوئی حسیں ہر ایک ادا حسیں مگر اتنی سب کو نظر نہیںکوئی روپ شان جمال میں کوئی روپ شان جلال میں

نہیں جس پہ عشق کا کچھ اثر بھلا اس کی حسن پہ کیا نظراسے کیا بسنت کی ہو خبر جو رنگا نہ جائے گلال میں

ہوئے حسن و عشق جو دو بدو رہی دو دلوں کی اک آرزوکبھی اس کے غمزۂ شوخ میں کبھی میرے چشم سوال میں

مرا یار مجھ سے جدا کہاں ہے وہی عیاں ہے وہی نہاںمرے دل کے ساتھ مری زباں وہی قال میں وہی حال میں

مرے غور‌ و فکر کے زاویوں پہ ہیں پہرے ایسے لگے ہوئےحال مجال ہے کہ ترے سوا کوئی آ تو جائے خیال میں

یہ وہی ہے کاملؔ با وفا کہ جہاں کہیں بھی رہا رہاترے ذکر میں تری فکر میں تری دھن میں تیرے خیال میں

— کامل شطاری