9 اشعار

ہم جو کسی کے ہو گئے ہم جو کسی پر مر گئے

Hum jo kisi ke ho gaye hum jo kisi par mar gaye

ہم جو کسی کے ہو گئے ہم جو کسی پر مر گئے

«ہم جو کسی کے ہو گئے ہم جو کسی پر مر گئے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہم جو کسی کے ہو گئے ہم جو کسی پر مر گئےاپنی تمام عمر میں کام یہی تو کر گئے

دل کے نصیب جاگ اٹھے تار نظر سنور گئےآپ جہاں جہاں رہے آپ جدھر جدھر گئے

حسن کو جن پہ ناز تھا جب سے وہ دیدہ ور گئےکتنے ہی چہرے پھول سے زرد پڑے اتر گئے

جب نہ ہو کوئی قدرداں فصل بہار بھی خزاںغنچے چٹک کے رہ گئے پھول کھلے بکھر گئے

ڈھونڈھ رہی ہے بار بار ان کی نگاہ سوگواراہل وفا وہ کیا ہوئے اہل نظر کدھر گئے

حسن وہی ادا وہی جلوہ وہی فضا وہیکس سے نظر کی داد لوں ہائے وہ ہم نظر گئے

اک در یار کے سوا کچھ نہ کہیں سکوں ملاجانے کہاں کہاں پھرے جانے کدھر کدھر گئے

اپنی تو موت اور حیات ان کی بس اک نظر کی باتایک نظر میں جی اٹھے ایک نظر میں مر گئے

کاملؔ اسی پہ چھوڑ دے دست دعا کو توڑ دےصبر سے اب بھی کام لے نالہ تو بے اثر گئے

— کامل شطاری