11 اشعار

رکھا نہ اب کہیں کا دل بے قرار نے

Rakha na ab kahin ka dil be-qarar ne

رکھا نہ اب کہیں کا دل بے قرار نے

«رکھا نہ اب کہیں کا دل بے قرار نے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

رکھا نہ اب کہیں کا دل بے قرار نےبرباد کر دیا غم بے اختیار نے

دل تو کبھی کا نذر کیا جاں نثار نےاک جاں ہے وہ بھی آپ کا صدقہ اتارنے

اس فتنہ گر کو جیت لیا ہار مان کرکیا کیا مزہ دیا ہمیں اس جیت ہار نے

پہلو بدل بدل کے مزے درد کے لئےوہ کروٹیں دکھائیں دل بے قرار نے

اب خواب میں بھی دید کو آنکھیں ترس گئیںبے خواب کر دیا غم شب زندہ دار نے

وہ فصل گل میں دل کو جلا کر چلے گئےاس مرتبہ تو آگ لگا دی بہار نے

خاموش بھی ہوں میں تو مجھے سن رہے ہیں وہاتنا تو کر دیا مرے دل کی پکار نے

سو سو طرح کی موت سے پالا پڑا ہمیںکیا کیا کرم کیا ہے ترے انتظار نے

دنیائے نطق بہہ گئی سیلاب اشک میںپوچھا جو ہم سے حال کسی غم گسار نے

ناداں پکار اس کو جو سنتا ہے تیری باتتو اس کو چھوڑ کس کو چلا ہے پکارنے

کاملؔ نگاہ اس کی جمی جس پے جم گئیچاہا جسے پسند کیا چشم یار نے

— کامل شطاری