9 اشعار

ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے

Hum vasl mein aise khoye gaye furqat ka zamana bhool gaye

ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے

«ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئےساحل کی خوشی میں موجوں کا طوفان اٹھانا بھول گئے

آنکھوں میں جو صورت تھی ان کی غیروں سے چھپانا بھول گئےپھولوں کی محبت میں دامن کانٹوں سے بچانا بھول گئے

دل رکھ تو لیا وعدہ کر کے اور وعدے پہ آنا بھول گئےیا یہ کہ محبت وہ نہ رہی یا ناز اٹھانا بھول گئے

بیتابیٔ دل کے ہاتھوں سے توہین محبت ہو نہ سکیاچھا بھی ہوا جب وہ آئے ہم حال سنانا بھول گئے

جب چاہنے والے ختم ہوئے اس وقت انہیں احساس ہوااب یاد میں ان کی روتے ہیں ہنس ہنس کے رلانا بھول گئے

جینا ہے ترے ہی قدموں میں مرنا ہے ترے ہی قدموں میںکیا خوب ہوا ہم در سے ترے سر اپنا اٹھانا بھول گئے

کیوں نیچی نگاہوں سے مجھ کو پیمانہ دکھا کر ہنستے ہوآنکھیں تو ملا کر بات کرو نظروں سے پلانا بھول گئے

یا تو نے نظر خیرہ کر دی اے برق تجلی یا ہم ہیدیدار میں اپنی آنکھوں کا احسان اٹھانا بھول گئے

خود آپ نے اپنے کاملؔ کو دیوانہ بنا کر چھوڑا ہےاب ہوش اڑے کیوں جاتے ہیں کیا ہوش اڑانا بھول گئے

— کامل شطاری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں