10 اشعار

لٹے نہ کیوں دل کونین یا غریب نواز

Lute na kyun dil kaunain ya Ghareeb Nawaz

لٹے نہ کیوں دل کونین یا غریب نواز

«لٹے نہ کیوں دل کونین یا غریب نواز» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

لٹے نہ کیوں دل کونین یا غریب نوازز فرق تا بہ قدم ہر ادا غریب نواز

میری نظر میں ہے روضہ ترا غریب نوازنگاہ شوق ہے قبلہ نما غریب نواز

ترا وجود ہے جان بہار گلشن چیشتتجھی سے نکہت ہر گل ہے یا غریب نواز

رسول حق کی عطا اور تم عطائے رسولجو تم ملے تو سبھی کچھ ملا غریب نواز

تمہارے در سے ہزاروں غریب پلتے ہیںتمہارے کوچے کی ساری فزا غریب نواز

تمہارا درد ہے سرمایۂ حیات مراخدا کرے کہ یہ ہو لا دوا غریب نواز

بحق خواجۂ عثماں ادھر بھی چشم کرمتمہارے در کا ہوں میں بھی گدا غریب نواز

سمجھ میں آئے گا امداد کیسے ہوتی ہےذرا تڑپ کے پکارو تو یا غریب نواز

ضیا ہیں شمع رسالت کی نام کچھ بھی سہیمجھے تو ایک ہیں غوث الورا غریب نواز

حضور آپ کا ایسا بھی اک غلام سہیپناہ دیجئے کاملؔ کو یا غریب نواز

— کامل شطاری