14 اشعار

جلوۂ یار نے کچھ ایسی ادا پائی ہے

Jalwa-e-yaar ne kuch aisi ada paayi hai

جلوۂ یار نے کچھ ایسی ادا پائی ہے

«جلوۂ یار نے کچھ ایسی ادا پائی ہے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 48 سیکنڈ ہے۔

جلوۂ یار نے کچھ ایسی ادا پائی ہےہر جھلک ایک نیا دعویٰ یکتائی ہے

مر مٹے ہم وہ ابھی محو خود آرائی ہےاس کے قربان جو خاموش تماشائی ہے

زخم دل ہو گئے پھر ان کی عنایت سے ہرےمیرے گلشن میں پھر اک تازہ بہار آئی ہے

مے ٹپکتی ہے نگاہوں سے میرے ساقی کیچشم بد دور عجب مست نظر پائی ہے

بڑھ گئی چین جبیں سے میرے دل کی دھڑکنان کی خفگی میں بھی انداز مسیحائی ہے

لوگ منہ مانگی مرادوں کی دعا کرتے ہیںہم نے ہر چیز طلب سے بھی سوا پائی ہے

مٹ بھی جائے یہ کہیں طالب و مطلوب کا فرقاس کے آگے نہ تمنا نہ تمنائی ہے

آپ کے جتنے گلے ہیں میرے سر آنکھوں پرقطرہبات پرقطرہ بات مجھے بھی کوئی یاد آئی ہے

تیری خاطر کہوں یا پاس ادب سے میں نےعمر بھر تہمت ہستی کی سزا پائی ہے

عشق میں چل نہیں سکتی ہے سمجھ بوجھ کی باتتیرے دیوانے کو اب اتنی سمجھ آئی ہے

آپ کے حسن کی ہر وقت نئی شان کھلیجب کبھی دل نے کوئی چوٹ نئی کھائی ہے

آپ سے مجھ کو اگر ربط نہیں ہے کوئییہ کشش کیا ہے یہاں تک جو مجھے لائی ہے

دو حیاتوں کے ہے مابین اجل کا وقفہموت سستائی ہوئی زیست کی انگڑائی ہے

اپنے قدموں سے جدا کر کے تماشہ نہ بناتیرا کاملؔ ترا بندہ ترا شیدائی ہے

— کامل شطاری