12 اشعار

کیا ایک نظر کی زحمت بھی اے جانِ جہاں منظور نہیں

Kya ek nazar ki zehmat bhi aye jaan-e-jahaan manzoor nahin

کیا ایک نظر کی زحمت بھی اے جانِ جہاں منظور نہیں

«کیا ایک نظر کی زحمت بھی اے جانِ جہاں منظور نہیں» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

کیا ایک نظر کی زحمت بھی اے جان جہاں منظور نہیںمیں چاہے کسی قابل نہ سہی تیرے تو کرم سے دور نہیں

ہر چند فقط مختار نہیں ہر چند فقط مجبور نہیںاک آہ تو بھر لوں اپنی خوشی اتنا بھی مجھے مقدور نہیں

ہاں حق تو ادا کر لیتا ہوں اے دوست ترے ہر جلوے کالیکن میں دیکھوں تیرے سوا توہین نظر منظور نہیں

ہے جتنا تقرب ان سے جسے اتنا ہی کسا جاتا ہے اسےآئین محبت سب سے نئے پھر کوئی نیا دستور نہیں

یہ داغ محبت ہے جب تک تاریک نہیں ماحول مراہر شب ہے شب مہ میرے لئے کوئی بھی شب دیجور نہیں

احوال دروں کی انساں کے غماز نگاہیں ہوتی ہیںآنکھوں میں نظر مستور سہی آنکھوں سے نظر مستور نہیں

وہ راہ نورد شوق ہوں میں مشتاق ہیں راہیں خود میریجب ہاتھ میں دامن ہے ان کا پھر کوئی بھی منزل دور نہیں

دل جس کا نہ ہو اندھا اس کی آنکھیں ہوں اگر بے نور تو کیاہاں اس پہ مگر کچھ غور کرو دل ہی تو کہیں بے نور نہیں

جو چاہیں کہیں یہ دیوانے آئین وفا سے بیگانےمشرک ہوں اگر قدموں پہ ترے سجدوں کے لئے مامور نہیں

جب میں ہی نہ ہوں ہوتا ہے کوئی پاتا ہے جہاں کھوتا ہے کوئیکیا اس میں مقام حیرت ہے یا جلوہ نہیں یا طور نہیں

بے وجہ نہیں یہ اشک رواں ملتی ہیں محبت کی کڑیاںتم پاس بھی ہو کر پاس نہیں ہم دور بھی رہ کر دور نہیں

ہر گھاؤ ہے کاملؔ مژدۂ نو ہر داغ حیات غم کی نویدجینے کا مزہ کیا خاک ملے زخموں سے اگر دل چور نہیں

— کامل شطاری