6 اشعار

جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا

Jo dil ho jalwa-gah-e-naz us mein gham nahin hota

جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا

«جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتاجہاں سرکار ہوتے ہیں وہاں ماتم نہیں ہوتا

ہوس آخر ہوس ٹھہری ہوس کا ذکر ہی کیا ہےمگر جب عشق ہو جاتا ہے پھر وہ کم نہیں ہوتا

جگر کے زخم بھرتے ہیں نہ دل کے داغ مٹتے ہیںمحبت کی جراحت کا کہیں مرہم نہیں ہوتا

مقام قرب میں بھی ہیں وہی بے تابیاں باقیکسی منزل میں ہو دل کا تڑپنا کم نہیں ہوتا

غرور عبدیت بھی اللہ اللہ کچھ عجب شئے ہےترے در کے سوا یہ سر کہیں بھی خم نہیں ہوتا

تڑپنے سے ذرا سا مل تو جاتا ہے سکوں کاملؔمگر اس طرح درد دل کسی کا کم نہیں ہوتا

— کامل شطاری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں