10 اشعار

تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے

Tum apne ko khud apne hi jalwon mein chhupa ke

تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے

«تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے پرشانت نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کےدیکھو نہ تماشہ مجھے دیوانہ بنا کے

محروم کرم ہو گئے کیوں ہوش میں آکےبھوکے تھے ابھی ہم ترے دامن کی ہوا کے

تا نگۂ شوق کی خاطر ہو جو پردہفرمائے دیکھوں کسے پھر اس کو ہٹا کے

نا قابل ترمیم ہے دستور محبتاحکام بدلتے نہیں قانون وفا کے

کھلنا ہے پس پرسہ حقیقت کو بھی اک دنکھیلو گے کہاں تک مجھے افسانہ بنا کے

مجنوں ہی کے جلووں کا تماشہ نظر آیادیکھا جو نقاب رخ لیلا کو ہٹا کے

کم ظرف نہیں ہوں کہ بہک جاؤں نظر سےاک تجربہ کر لیجئے یہ مے بھی پلا کے

ہر چند ہے داغوں سے گلستاں مرا سینہتم پھر بھی تو معصوم ہو گل اتنے کھلا کے

ہیں میری نگاہوں پہ ہزاروں کی نگاہیںدیکھوں تمہیں کس کس کی نگاہوں سے بچا کے

ہر چیز مشیت کا نشانہ ہیں وہ کاملؔسختی سے جو پابند ہیں آداب وفا کے

— کامل شطاری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں