15 اشعار

ترک غم گوارا ہے اور نہ غم کا یارا ہے

Tark-e-gham gawara hai aur na gham ka yaara hai

ترک غم گوارا ہے اور نہ غم کا یارا ہے

«ترک غم گوارا ہے اور نہ غم کا یارا ہے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

ترک غم گوارا ہے اور نہ غم کا یارا ہےاب تو دل کی ہر دھڑکن عالم آشکارا ہے

ہم سے بے سہاروں کو آپ کا سہارا ہےآپ ہی کی دکھ سکھ میں عمر بھر پکارا ہے

موج خود سفینہ ہے بحر خود کنارا ہےناخدا سے کیا مطلب جب خدا ہمارا ہے

ہو چلا یقین جب سے وہ حسیں ہمارا ہےیہ خوش اعتمادی بھی اک بڑا سہارا ہے

یہ تو کہیے کیا اس کو آپ چھوڑ سکتے ہیںجس نے مرتے مرتے بھی آپ کو پکارا ہے

لطف بندگی تم سے میری زندگی تم سےتم نہیں تو پھر کس کو زندگی گوارا ہے

کس خطا پہ جھونکی ہے خاک میری آنکھوں میںکیا مقام تھا میرا اور کہاں اتارا ہے

حاصل مراد دل چشم التفاف اس کیساری کائنات اپنی وہ اگر ہمارا ہے

پھر اسی پہ مرنے کو جی اٹھوں گا محشر میںپھر وہی جلائے گا جس نے مجھ کو مارا ہے

بچ کے سب کی نظروں سے ہم نے آنکھوں آنکھوں میںاپنے یار کا صدقہ بارہا اتارا ہے

یہ تو صاف ظاہر ہے ہم اسی کے بندے ہیںکوئی اس سے جا پوچھے وہ بھی کیا ہمارا ہے

جو نہ دیکھ سکتا ہو چاک‌ دامنی میریچاک‌ پردۂ عصیاں کب اسے گوارا ہے

ہم سے پوچھئے صاحب انتظار کی گھڑیاںہم نے رات کاٹی ہے ہم نے دن گزارا ہے

اک طرف تمنائیں اک طرف خوشی ان کیہائے کس دوراہے پر کشمکش نے مارا ہے

بے ہنری سہی لیکن بے وفا نہیں کاملؔیہ تمہارا بندہ ہے اور فقط تمہارا ہے

— کامل شطاری