6 اشعار

نہ کھو دیتے ترے جلوے تو یہ کس کو یقیں ہوتا

Na kho dete tere jalwe toh yeh kis ko yaqeen hota

نہ کھو دیتے ترے جلوے تو یہ کس کو یقیں ہوتا

«نہ کھو دیتے ترے جلوے تو یہ کس کو یقیں ہوتا» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

نہ کھو دیتے ترے جلوے تو یہ کس کو یقیں ہوتادم نظارہ جلووں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا

خدا جانے کہ اس حسرت میں کتنے جان کھو بیٹھےترا جلوہ کسی دن خاتم دل کا نگیں ہوتا

طلب اور جستجو شرط مقدم ہے مگر پھر بھینہ چاہیں خود ہی وہ جب تک کسی سے کچھ نہیں ہوتا

تری یکتائی کی خاطر خیال اپنا بٹایا ہےتصور حد سے بڑھ جاتا تو صورت آفریں ہوتا

ہزاروں غفلتوں سے سابقہ دن رات پڑتا ہےمگر دل ہے کہ اس کی یاد سے غافل نہیں ہوتا

کبھی افتادگی کی قوتیں بھی دیکھیے کاملؔوہیں سے کام بنتا ہے جہاں کچھ بھی نہیں ہوتا

— کامل شطاری