9 اشعار

مجھے دے رہے ہیں تسکیں وہ مذاق غم بدل کر

Mujhe de rahe hain taskeen woh mazaq-e-gham badal kar

مجھے دے رہے ہیں تسکیں وہ مذاق غم بدل کر

«مجھے دے رہے ہیں تسکیں وہ مذاق غم بدل کر» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

مجھے دے رہے ہیں تسکیں وہ مذاق غم بدل کرنکل آئی دل کی حسرت مرے آنسوؤں میں ڈھل کر

ادب اے جنون الفت یہ مقام بندگی ہےترا جو قدم بھی اٹھے وہ اٹھے ذرا سنبھل کر

یہ بنی عجیب کچھ شئے مرے عشق کی بدولتترے حسن کی خدائی مری بندگی میں ڈھل کر

فقط آرزوئے دل پر ہے مدار زندگانیمجھے بے مزا نہ کر دے کوئی آرزو نکل کر

دیار سے اٹھا ہوں نہ اٹھوں گا تا قیامتکہ یہیں سکوں ملا ہے مرے دل کو اب تو چل کر

کبھی کچھ نظر ہے ان کی کبھی کچھ نظر ہے ان کیوہ پلائے جا رہے ہیں مجھے مے بدل بدل کر

رہوں بے نیاز مقصد تری بندہ پروری سےکہیں لب تک آ نہ جائے کوئی مدعا مچل کر

کوئی ہم سے بڑھ کے ساقی نہیں مستحق کرم کاکہ ملے ہیں مے کشوں میں ترے میکدے میں پل کر

وہ غرور حسن خود سر و سر نیاز کاملؔکوئی مسکرا رہا ہے مری زندگی بدل کر

— کامل شطاری