9 اشعار

سو بار ہوئی دل کی بری طرح تباہی

Sau baar hui dil ki buri tarah tabahi

سو بار ہوئی دل کی بری طرح تباہی

«سو بار ہوئی دل کی بری طرح تباہی» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

سو بار ہوئی دل کی بری طرح تباہیمعصوم ہے پھر بھی تری دزدیدہ نگاہی

تو خانہ بر انداز بنے یا مرا دم سازہے تیری حکومت ترا سکہ تری شاہی

تونے بھی اگر پھیر لی چشم کرم اپنیہم جیسے گناہ گار کہاں جائیں الٰہی

احساس کی دنیا میں ہوں کیوں جی نہ بھر آئےدیکھی نہیں جاتی ترے بندوں کی تباہی

تقدیر محبت بھی کہاں جا کے لڑی ہےمیں بندۂ پر عیب وہ محبوب الٰہی

یوں ڈھل گئی مرضی مری منشا پہ کسی کےجو بات مرے دل میں ٹھنی اس نے وہ چاہی

ڈرتا ہوں میں جب زہد پہ کرتا ہے کوئی نازلٹیا نہ ڈبو دے کہیں نا کردہ گناہی

ساقی تری یاد آتے ہی کھو دیتی ہے مجھ کسیمستانہ روش مست ادا مست نگاہی

یہ عشق کی منزل ہے قدم پھونک کے رکھیےکاملؔ ہے یہاں ایک تباہی سی تباہی

— کامل شطاری