19 اشعار

وہی کچھ حسن کے جلووں کا پورا لطف پاتے ہیں

Wohi kuch husn ke jalwon ka poora lutf paate hain

وہی کچھ حسن کے جلووں کا پورا لطف پاتے ہیں

«وہی کچھ حسن کے جلووں کا پورا لطف پاتے ہیں» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

وہی کچھ حسن کے جلووں کا پورا لطف پاتے ہیںجو اپنے دل کو خود اک مستقل کعبہ بناتے ہیں

وہ آتے جاتے جب ساز نفس کو چھیڑ جاتے ہیںمرے اجزائے ہستی سب انہیں کے گیت گاتے ہیں

محبت ہو اگر سچی تو ایسے دن بھی آتے ہیںوہ اپنے ناز برداروں کے خود بھی ناز اٹھاتے ہیں

خبر اس وقت ہوتی ہے وہ جب ناوک لگاتے ہیںنشانہ کوئی ہو جس کو اڑانا ہوا اڑاتے ہیں

محبت کے کھلاڑی ہار کر بھی جیت جاتے ہیںوہ اتنا جان کر ہی جان کی بازی لگاتے ہیں

جو اس پر مر مٹے ان سے ہزاروں فیض پاتے ہیںانہیں مردہ نہ سمجھو وہ تو مردوں کو جلاتے ہیں

نظر حد تعین سے جہاں آگے نہیں بڑھتیوہاں کچھ حسن کے بے قید جلوے مسکراتے ہیں

ہمیں وہ بھول جائیں تو گلہ کیا بھول جانے کاجب ان کی یاد میں اپنے کو ہم خود بھول جاتے ہیں

کفن میں منہ چھپانا حسن سے اک چھیڑ ہے گویاجو ہم سے منہ چھپاتے تھے ہم ان سے منہ چھپاتے ہیں

تعجب کیا اگر بے نور ہوں آنکھیں ضعیفی میںسحر جب ہونے آتی ہے ستارے جھلملاتے ہیں

یہ مجھ پر تہمت ہستی نہیں تو اور پھر کیا ہےحقیقت سے جو کورے ہیں وہ بے پر کی اڑاتے ہیں

وجود غیر وہمی ہی سہی مشہود ہو کیوں کرنظر کے زاویوں پر تک تو وہ پہرے بٹھاتے ہیں

شراب عبدیت ہر پینے والے کو نہیں پچتییہ وہ مے ہے کہ جس کو ظرف والے ہی پچاتے ہیں

اثر ہو یا نہ ہو نالوں کا لیکن یہ بھی کیا کم ہےکسی عنواں وہ میرا درد دل کچھ سن تو پاتے ہیں

کبھی کچھ اس طرح آواز آ جاتی ہے کانوں میںوہ جیسے پاس ہی مدھم سروں میں گنگناتے ہیں

سہارا مل گیا ہے جب سے ان کی دستگیری کاقدم دانستہ لغزش سے بھی اکثر ڈگمگاتے ہیں

کہے دیتی ہیں نظریں حال دل آنکھوں ہی آنکھوں میںچھپاؤں لاکھ لیکن دل کے گوشے کھل ہی جاتے ہیں

مرے بس کی نہیں ترک محبت کیا کروں ناصحمیں جتنا بھولنا چاہوں وہ اتنا یاد آتے ہیں

نمک پروردۂ حسن ملیح یار ہوں کاملؔاسی نسبت سے دل کے زخم سارے مسکراتے ہیں

— کامل شطاری