9 اشعار

نام ہوا بدنام کسی کا

Naam hua badnaam kisi ka

نام ہوا بدنام کسی کا

«نام ہوا بدنام کسی کا» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

نام ہوا بدنام کسی کانام کسی کا کام کسی کا

جب سے کسی پر دل آیا ہےختم ہوا آرام کسی کا

حسن فریب عشق نہ پوچھوصید کسی کا دام کسی کا

منہ میں مصری گھول رہا ہوںہے جو زباں پر نام کسی کا

تیرے قرباں اچھے ساقیپھیر نہ خالی جام کسی کا

منزل حق میں تیری انا کیوںبھول نہ جا انجام کسی کا

راہ وفا آسان نہیں ہےپہلے دامن تھام کسی کا

میرے ہمیشہ کام آیا ہےہر مشکل میں نام کسی کا

وہ بھی کوئی بندہ جو کاملؔصبح کسی کا شام کسی کا

— کامل شطاری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں