5 اشعار

بات سے بات نکلنے کے وسیلے نہ رہے

Baat se baat nikalne ke waseele na rahe

بات سے بات نکلنے کے وسیلے نہ رہےلب رسیلے نہ رہے نین نشیلے نہ رہے

اشک برسے تو دروں خانۂ جاں سیل گیادرد چمکا تو در و بام بھی گیلے نہ رہے

پھول سے باس جدا فکر سے احساس جدافرد سے ٹوٹ گئے فرد قبیلے نہ رہے

ٹیس اٹھتی ہے مگر چیخ نہیں ہو پاتیتیرے پھینکے ہوئے پتھر بھی نکیلے نہ رہے

موت نے چھین لیا رنگ بھی نم بھی خالدؔآنکھ بھی سوکھ گئی ہونٹ بھی نیلے نہ رہے

— خالد احمد